ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیندور میں باحجاب طالبات کے ساتھ طلبہ کوبھی زعفرانی شال اوڑھ کر امتحان لکھنے کی دی گئی اجازت

بیندور میں باحجاب طالبات کے ساتھ طلبہ کوبھی زعفرانی شال اوڑھ کر امتحان لکھنے کی دی گئی اجازت

Mon, 07 Feb 2022 22:16:42    S.O. News Service

اُڈپی 7 فروری (ایس او نیوز) ضلع اُڈپی کے بیندور تعلقہ کے اُپندا ہائی اسکول میں حجاب کی مخالفت میں جب طلبہ کیسری شال اوڑھ کر اسکول پہنچے تو امتحانات کے پیش نظر ایک طرف با حجاب طالبات کو امتحان لکھنے کی اجازت دی گئی وہیں  کیسری شال اوڑھ کر آنے والے طلبہ کو بھی امتحان میں شریک ہونے دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ امتحانات کو دیکھتے ہوئے اسکول انتظامیہ نے اس طرح کا فیصلہ لیا کہ بچوں کے امتحانات حجاب اور شال کو لے کر متاثر نہ ہونےپائے۔

البتہ کمباداکونے میں واقع سرکاری پی یو کالج میں باحجاب طالبات کی مخالفت میں جب لڑکے کیسری شال اوڑھ کر کالج پہنچے تو ممکنہ مڈبھیڑ کو دیکھتے ہوئے کالج انتظامیہ نے کالج میں چھٹی کا اعلان کردیا۔

پتہ چلا ہے کہ سرکاری پی یو کالج بیندور میں حجاب پہننے والی طالبات کے لیے الگ کمرے کا انتظام کیا گیا ہے اور طالبات سے کہا گیا ہے کہ وہ مخصوص کمرے میں جاکر پہلے اپنا حجاب اُتارے، پھر بغیر حجاب کلاس میں شریک ہوجائیں۔

اُدھر گنگولی کی ایس وی ایس کالج میں بھی طالبات حجاب اُتارکر کالج میں داخل ہونے کی بات پرسخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہیں اور حجاب کے بغیر کلاسس میں حاضر ہونے سے انکار کردیا ہے۔

بتاتے چلیں کہ کالجس میں حجاب کا معاملہ اُڈپی سرکاری کالج سے شروع ہوا تھا جب 28 ڈسمبر کو وہاں کے پرنسپل نے اچانک کالج طالبات کو حجاب اُتار کر کلاسس جانے کے لئے کہا، اس پر چھ  طالبات نے اپنا حجاب اُتارنے سے انکار کردیا۔ قریب دو ماہ بعد اچانک کنداپور سرکاری کالج میں بھی باحجاب طالبات کو حجاب کے ساتھ کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

اُڈپی کی طالبات نے بتایا کہ ٓحجاب کی اجازت لینے کے لئے ہم نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، کل منگل 8 فروری کو کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ سامنے آئے گا، طالبات نے بتایا کہ جب تک عدالت کا فیصلہ نہیں آتا وہ حجاب پہن کر ہی کالج آئیں گی۔ طالبات نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہائی کورٹ میں ہمارے حق میں ہی فیصلہ آئے گا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں نہیں آیا تو کیا کریں گی، انہوں نے جواب دیا کہ حجاب ہمارا آئینی حق ہے اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہیں آیا تو ہم اس پر اپیل دائر کریں گے۔


Share: